داخلہ
داخلہ کے سلسلے میں ایک لازمی اصول یہ ہے کہ جامعہ میں ایسے طالب علم داخل ہوں جو دینی مزاج اور مطلوبہ علمی استعداد رکھتے ہوں ،اس لیے داخلہ کے لیے امتحان ِداخلہ لازمی شرط ہے۔
جامعہ کے تعلیمی سال کا آغاز شوال المکرم کے پہلے عشرے میں ہوتاہے ،عموماً دس شوال کو نئے داخلوں کی تاریخ، تفصیل اور طریقہٴ کار کا اعلان کیا جاتاہے۔
شرائط داخلہ
کسی بھی درجے میں داخلہ کے لیے آنے والا طالب علم سابقہ درجہ کے کوائف بالخصوص وفاق المدارس العربیہ کی سندات اور کشف الحضور وغیرہ پیش کرنے کا پابند ہوتا ہے ۔
طلبہ کی تربیت پر جامعہ میں پوری توجہ دی جاتی ہے اس لیے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ جامعہ کے ان قواعد وضوابط کی پابندی کرے جو آگے آرہے ہیں۔
بنیادی طور پر یہ ضروری ہے کہ طالب علم صحیح العقیدہ مسلمان ہو ،اتباع سنت اور اسلاف کا طرز ِفکروعمل اس کا شیوہ ہو
داخلہ کے لیے عموماً مڈل یا میٹرک پاس طلبہ آتے ہیں چنانچہ ایسے طلبہ کو اسکول سے حاصل شدہ سند کی بنیاد پر درجہ اولیٰ کے لیے امتحان ِداخلہ میں شامل کیا جاتا ہے۔
داخلہ کا طریقہٴ کار
کسی بھی درجہ میں داخلہ کے خواہش مند طالب علم کو مطلوبہ درجہ میں داخلہ کے لیے سابقہ درجہ کا امتحان دینا ضروری ہے صرف امتحان میں کامیابی پر داخلہ نہیں ملتا بلکہ جہاں تعلیمی استعداد کی چھان بین ہوتی ہے وہاں طالب علم کے ذہنی وفکری رجحان کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔جس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جامعہ میں داخلہ لینے والے طالب علم کا ذہن وفکر کہیں غیر علمی امور میں مشغول تو نہیں۔
داخلہ کے طریقہٴ کار میں حسب ضرورت قدرے رد وبدل ہوتا رہتاہے، تاہم عام طور پر طالب علم سے ناظرہٴ قرآن کریم ، نماز اور دعاؤں کا شفوی جائزہ لیا جاتا ہے اس میں کامیاب ہونے والے طالب علم کو داخلہ فارم دیا جاتا ہے جس پر دفتری کاروائی کے بعد اس طالب علم کا داخلہ مکمل ہوکر اسے "بطاقة القبول دیا جاتا ہے اور رجسٹر داخلہ میں اس کے نام کا اندراج کیا جاتا ہے۔
اوقات تعلیم
درجات کتب والوں کی تقریبا صبح آٹھ بجے سے لے کر ظہر کی ایک بجہ تک تعلیم ہوتی ہے ، درمیان میں کھانے،آرام اور نماز کا وقفہ ہوتا ہے ، عصر تک تکرار کا وقت ہوتا ہے جبکہ مغرب کے دو گھنٹے تک مطالعہ کا وقت ہوتا ہے۔
البتہ حفظ کی کلاسیں نماز فجر کے بعد سے شروع ہوکر رات دس بجے تک حتم کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ درجہ تجوید کے لئے بھی ایک خاص اوقات کا ر مقرر ہے ۔
تعلیمی دورانیہ اور تعطیلات
جامعہ میں تعلیمی دورانیہ تقریبا دس ماہ پر مشتمل ہے جو نصف شوال سے شروع ہوکر اوائل شعبان پر ختم ہوتا ہے سالانہ تعطیلات دوماہ ہوتی ہیں، عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی باہمی مشورے کے ساتھ تعطیلات دی جاتی ہے جبکہ ہفتہ وار چھٹی جمعرات کی صبح سے لے کر جمعہ کی مغرب تک ہوتی ہے۔
طلبہ کی کفالت اور وظائف
جامعہ کے تمام شعبوں میں تعلیم مفت دی جاتی ہے، طلبہ سے تعلیمی ،رہائشی یاکسی اورقسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی ،رہایش پذیر طلبہ کو کھانا، علاج اور دیگر ضروریات بھی مہیا کی جاتی ہیں، جسے اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم اورنیک بندوں کے تعاون کے ذریعہ سے پورا فرماتے ہیں۔
دار الاقامہ
جامعہ میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی اور اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے، جس کے لئے ضروری ہے کہ طالب علم چوبیس گھنٹے جامعہ کے ماحول میں گزارے، اس مقصد کے لئے جامعہ نے دار الاقامہ کا انتظام کیا ہے،چنانچہ جامعہ میں طلبہ کی رہائش کے لیے کئی عمارتیں موجود ہیں ، ان عمارتوں میں بجلی، پانی، پنکھے ،گیزراور ٹھنڈے پانی کے کولر جیسی ضروریات موجود ہیں۔
دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے اساتذہ مقرر ہیں جوتعلیمی اوقات کے علاوہ بھی ان کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں،رات کو کسی بھی وقت ان کی حاضری بھی لے لیتے ہیں، صبح اور دوپہر میں قیلولے کے بعد انہیں نماز کے لئے جگاتے ہیں ، اگر کوئی طالب علم بیمار ہوجائے تو اس کے فوری علاج معالجے کا انتظام کرتے ہیں۔
جامعہ میں کثیر تعداد میں وہ طلبہ بھی پڑھتے ہیں جو کہ جامعہ کے گردونواح سے آتے رہتے ہیں ، ایسے طلبہ صرف تعلیم اور مطالعہ کے اوقات تک جامعہ میں رہتے ہیں ، اس کے بعد وہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں ۔
امتحانات
جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں میں سال میں تین امتحانات لئے جاتے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
- سہ ماہی امتحان (صفر المظفرکے پہلے ہفتے میں)
- شش ماہی امتحان (جمادی الاولیٰ کے پہلے ہفتے میں)
- سالانہ امتحان (شعبان کے پہلے ہفتے میں)
امتحانات سے چندروز قبل طلبہ کے رول نمبرنوٹس بورڈ پر لگائے جاتے ہیں اور امتحان کے نظام الاوقات کا اعلان کردیا جاتا ہے،اسی طرح امتحان سے قبل طلباء کا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں امتحان کے قواعد وضوابط کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے ،تحریری امتحانات کا دورانیہ چھ د ن کا ہوتا ہے ۔
سالانہ چھٹیوں میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لئے عربی زبان اور صرف و نحو کی مختصر کورسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
طریقہٴ امتحانات
عام طور پر تمام امتحانات تحریری ہوتے ہیں ، تحریری امتحانات میں عموماً ہر پرچے کے لیے تین گھنٹے کا وقت ہوتا ہے، پرچہ شروع ہونے کے مقررہ وقت سے پندرہ منٹ قبل گھنٹہ بجتا ہے جس کے بعد طلباء امتحان ہال میں داخل ہوکر اپنے رقم الجلوس (رول نمبر) کی ترتیب سے بیٹھ جاتے ہیں ، ہر طالب علم کا رقم الجلوس کارڈ کی صورت میں مقررہ جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے، پندرہ منٹ بعد دوسرا گھنٹہ بجتا ہے اور سوالیہ پرچے تقسیم کردیے جاتے ہیں اور طلبہ اساتذہ کی نگرانی میں پرچے حل کرنا شروع کرتے ہیں ،امتحان شروع ہونے کے ایک گھنٹہ بعد طالب علم پرچہ جمع کرا کر جا سکتا ہے ،اس سے پہلے اگر وہ پرچہ لکھنے سے فارغ بھی ہو جائے تو اس کو امتحان ہال سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔
جن درجات کا امتحان "وفاق المدارس العربیہ "کے تحت ہوتا ہے ان کا سالانہ امتحان "وفاق” کے مقررہ نظام اور ترتیب کے مطابق ہوتا ہے۔
طریقہٴ سوالات
سہ ماہی اور شش ماہی امتحانات میں سوالات کے پرچے کتاب پڑھانے والے مدرسین خود بناتے ہیں ، عام طور پر ہر کتاب اور مضمون کے تین سوالات ہوتے ہیں اور تینوں لازمی ہوتے ہیں ،ہر سوال مختلف اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے اورہر جز کے الگ نمبرہوتے ہیں ۔
درجات وفاق کے سالانہ امتحان کے سوالیہ پرچے "وفاق المدارس العربیہ” کی طرف سے آتے ہیں۔
نتائج امتحانات
امتحانات کے ایام کے دوران پرچہ ختم ہونے کے بعد ممتحن حضرات ساتھ ساتھ فارغ اوقات میں امتحانی پرچے دیکھتے ہیں اور تقریبا تیسرے دن پرچہ واپس کرتے ہیں،اسی طرح سہ ماہئ اور شش ماہئ امتحان کے اختتام پر تین دن کی اضافی چھٹی دی جاتی ہے تاکہ اساتذہٴ کرام اطمینان سے پرچے دیکھ سکیں اور نتائج کا اعلان جلد کیا جاسکے ۔
امتحان کے نتائج مرتب ہونے کے بعد جامعہ کے تمام اساتذہ کرام کا اجلاس بلایا جاتا ہے جس میں ہر ہر جماعت کے نتائج پر تبصرہ ہوتا ہے اور جائزہ لیا جاتا ہے ، اس کے بعد طلبہ کا اجتماعی نتیجہ نوٹس بورڈ پر لگا دیا جاتا ہے ، اورہرجماعت میں اول ،دوم ، سوم آنے والے طلبہ کرام کو انعام دیا جاتا ہے ۔
کامیابی کے درجات
ہرمضمون کے سو نمبر ہوتے ہیں جن میں کامیابی کے لیے کم از کم 33 نمبر حاصل کرنا ضروری ہے جب کہ کامیاب طلبہ کے درجات کا معیار حسب ذیل ہیں
- ممتازمرتفع ٪90
- ممتاز ٪80
- جیدجدا ٪ 60
- جید ٪ 50
- مقبول ٪30
- اس سے کم نمبر لینے والا طالب علم "راسب "(ناکام)شمار ہوتا ہے ۔
سندات جامعہ
جامعہ کی طرف سے طلبہ کو جاری ہونے والی مختلف سندات :
- شهادة حفظ القرآن الکریم
- شہادت تجوید للحفاظ
- شہادت وفاق المدارس العر بیہ